Posts

Showing posts with the label تراویح ، رمضان ، نماز

امامت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کو کہ نہ حافظ قرآن ہے نہ مسائل دان نہ علمِ قرأت سے واقف ایك معمولی اردوخواں بلکہ بازار میں کتب فروشی و نعلین فروشی کی دکان کرنےوالا ہے ایك مسجد کا امام بننا چاہتا ہے حالانکہ دو عالم متقی ومحتاط اسی مسجد میں اور بھی موجود ہیں اور مہتمم مسجد واکثر نمازی اس شخص کی امامت سے راضی نہیں اس صورت میں ایسے امام کے حق میں کیا حکم ہے اور ان علماء کی اقتداء کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ بینوا تو جروا الجواب: صورتِ مسئولہ میں اُس شخص کو امام بننا جائز نہیں اگر امامت کرے گا گنہگار ہوگا جب لوگ اسکی امامت اس وجہ سے ناپسند رکھتے ہیں کہ اُس سے زیادہ علم والے موجود ہیں تو اُسے امامت کرنا شرعًا منع ہے۔ درمختار میں ہے : لو ام قوماوھم لہ کارھون ان الکراھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك تحریما١ [] الخ اگرکوئی کسی قوم کا امام بنا حالانکہ وہ لوگ اس کو برا جانتے ہیں تو اگران کی نفرت امام کے اندر کسی خرابی کی وجہ سے ہے یا اس وجہ سے کہ وہ لوگ بنسبت امام مذکور کے امامت کے زیادہ مستحق ہیں تو اس شخص کو امام ہونا مکروہِ تحریمی ہے الخ۔(ت) پس شخص مذکور ہر گز...

تراویح ، رمضان ، Ramzan, Taravih

کیا آپ جانتے ہیں  ؟ آج کل اکثر رواج ہوگیا ہے کہ حافظ کو اُجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں  یہ ناجائز ہے ۔ دینے والا اور لینے والا دونوں  گنہگار ہیں ، اُجرت صرف یہی نہیں  کہ پیشتر مقرر کر لیں  کہ یہ لیں  گے یہ دیں  گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں  کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ اَلْمَعْرُوْفُ کَالْمَشْرُوْطِ ہاں  اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں  دوں  گا یا نہیں  لُوں  گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں  تو اس میں  حرج نہیں  کہ اَلصَّرِیْحُ یُفَوِّقُ الدَّلَالَۃَ  ، صراحت کو دلالت پر فوقیت ہے ۔ ( “ بہار شریعت “ جلد ۴ ، ۶۹۵ ) طالب دعا : سید جیلانی میاں جیلانی خانقاہ مدنی سرکار ۔ موربی https://chat.whatsapp.com/JisyhwFq9Ea8eottd28Iqm