Posts

Showing posts with the label #saiyedjillanimiya

SyedJilaniMiya

Aaj ka Paigham 

Hazrat Imaam Sayyed Ja’afar al-Saadiq rahmatullāhi alaihi

Hazrat Imaam Sayyed Ja’afar al-Saadiq rahmatullāhi alaihi : ♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦ **************** Alqaab : ‾‾‾‾‾‾‾‾ Saadiq (Truthful), Faazil (Virtuous), Taahir (Pure). ***************** Aap ki wilaadat 17 Rabi-ul-Awwal 83 Hijri (20 April 702 A.D.) ko Madeena me hui. ***************** Aap ke waalid ka naam Hazrat Imaam Sayyed Muhammad al-Baaqir bin Imaam Zainul aabideen Sayyed Ali al-Aswat  rahmatullāhi alaihi aur waalida ka naam Hazrat Umme Farwah, Faatima bint Hazrat Qaasim bin  Muhammad bin Abu Bakr Siddeeq rahmatullāhi alaihi hai. Aap Husaini saadaat hain. ****************** Aap ne apne daada Imaam Zain-ul-aabideen aur waalid Imaam Muhammad al- Baaqir ke paas Qur'ān aur Hadeeṡ aur Tafseer ki ta’aleem haasil ki. Aap Hadeeṡ, Tafseer Fiq'h (Islamic jurisprudence), Falsafa (Philosophy), Ilm e kalaam (Theology), Ilm e Riyaazi (Mathematics), Ilm e Hai'at wa falaq (Astronomy), Ilme Tashreeh (Anatomy), Ilm e Keemiya (Alchemy) aur dusre uloom me maahir hue. ****************** 114...

امامت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کو کہ نہ حافظ قرآن ہے نہ مسائل دان نہ علمِ قرأت سے واقف ایك معمولی اردوخواں بلکہ بازار میں کتب فروشی و نعلین فروشی کی دکان کرنےوالا ہے ایك مسجد کا امام بننا چاہتا ہے حالانکہ دو عالم متقی ومحتاط اسی مسجد میں اور بھی موجود ہیں اور مہتمم مسجد واکثر نمازی اس شخص کی امامت سے راضی نہیں اس صورت میں ایسے امام کے حق میں کیا حکم ہے اور ان علماء کی اقتداء کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ بینوا تو جروا الجواب: صورتِ مسئولہ میں اُس شخص کو امام بننا جائز نہیں اگر امامت کرے گا گنہگار ہوگا جب لوگ اسکی امامت اس وجہ سے ناپسند رکھتے ہیں کہ اُس سے زیادہ علم والے موجود ہیں تو اُسے امامت کرنا شرعًا منع ہے۔ درمختار میں ہے : لو ام قوماوھم لہ کارھون ان الکراھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك تحریما١ [] الخ اگرکوئی کسی قوم کا امام بنا حالانکہ وہ لوگ اس کو برا جانتے ہیں تو اگران کی نفرت امام کے اندر کسی خرابی کی وجہ سے ہے یا اس وجہ سے کہ وہ لوگ بنسبت امام مذکور کے امامت کے زیادہ مستحق ہیں تو اس شخص کو امام ہونا مکروہِ تحریمی ہے الخ۔(ت) پس شخص مذکور ہر گز...

Masjid مسجد

 کیا آپ جانتے ہیں ؟  علماء فرماتے ہیں دروازہ مسجد پر جو دُکانیں ہیں فنائے مسجد ہیں کہ مسجد سے متصل ہیں ، فتاوٰی امام قاضی خاں پھر فتاوٰی علمگیریہ میں ہے: یصح الاقتداء لمن قام علی الدکاکین التی تکون علی باب المسجد لانھامن فناء المسجد متصلۃ بالمسجد۔ ] اس شخص کی اقتداء درست ہے جو اس دکان پر کھڑا ہے جو مسجد کے دروازے پر ہے کیونکہ یہ فنائے مسجد میں ہونے کی وجہ سے مسجد سے متصل ہے۔(ت) ظاہر ہے کہ جو دُکانیں دروازہ پر ہیں صحن مسجد سے متصل ہیں نہ درجہ مسقفہ سے ،تو لاجرم صحنِ مسجد مسجدہے، اور یہیں سے ظاہر کہ صحن کو فنا کہنا محض غلط ہے اگر وہ فنائے مسجد ہوتا تو دکانیں کہ اس سے متصل ہیں متصل بہ فنا ہوتیں ، نہ متصل بہ مسجد ، پھر ان دکانوں کے فنا ٹھہرنے میں کلام ہوتا کہ فنا وہ ہے جو متصل بہ مسجد ہو نہ وہ کہ متصل بہ فنا ہو، ورنہ اس تعریف پر لزوم دَور کے علاوہ متصل بالفنا بھی فنا ٹھہرے تو سارا شہر یا لااقل تمام محلہ فنائے مسجد قرار پائے  کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ت) اور یہ ادعا کہ صحن وفنا کا مفہوم واحد  جہل شدید ہے کہ کسی عاقل سے معقول نہیں ، شاید یہ قائل اُن دکانوں کو بھی صحن م...

Masjid مسجد

  حدیث  لاصلٰوۃلجارالمسجدالافی المسجد [] ) مسجد کے  پڑوسی کی نماز ، مسجد کے علاوہ نہیں ہو سکتی۔ کی تعمیل کہاں ہوئی اور سنتِ عظیمہ جلیلہ کس واسطے چھوڑی ، کہا کو ئی ذی عقل مسلمان گوارا کرے گا کہ مکان چھوڑ کر آوازِ آذان سُن کر نماز کو جائے اور مسجد ہو تے ساتے مسجد میں نہ پڑھے بلکہ اس کے حریم و حوالی میں نماز پڑھ کر چلا آئے، کیا اہل عقل ایسے شخص کو مجنون نہ کہیں گے، تو ا نکار والوں کا قو ل وفعل قطعًا متناقض، اگر یہ عذر کریں کہ جہاں امام نے پڑھی مجبوری ہیں پڑھنی ہوئی ہے تو محض بیجا و نا معقول وناقابل قبول ، آپ صاحبوں پر حقِ مسجد کی رعایت اتباعِ جماعت سے اہم و اقدم تھی، جب آپ نے دیکھا کہ سب اہل جماعت مسجد چھوڑ کر غیر مسجد میں نماز پڑھتے ہیں آپ کو چاہئے تھا خود مسجد میں جاکر پڑھتے، اگر کوئی مسلمان آپ کا ساتھ دیتا جماعت کرتے ورنہ تنہا ہی پڑھتے کہ حقِ مسجد سے ادا ہوتے۔ یہاں تك علما اس تنہا پڑھنے کو دوسری مسجد میں باجماعت پڑھنے سے افضل بتاتے ہیں نہ کہ غیر مسجد میں۔ فتاوٰی امام قاضی خاں پھر خزانۃ لمفتین پھر ردلمحتار وغیرہ میں ہے۔ یذھب الی مسجد منزلہ ویؤذن فیہ ویصلی وان کان واحدًا لا...

مسجد masjid

کیا آپ جانتے ہیں ؟ کہ اگر عمارت اصلًا نہ ہو صرف ایك چبوترہ یا محدودمیدان نماز کے لئے وقف کردیں قطعًا مسجد ہوجائے گا اور تمام احکامِ مسجد کااستحقاق پائے گا۔  فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی ذخیرہوفتاوٰی علمگیریوغیرہا میں ہے; رجل لہ ساحۃ امر قوما ان یصلوافیھا بجماعۃان قال صلوا فیھاابداا وامرھم بالصلٰوۃ مطلقا و نوی الابدصارت الساحۃ مسجدا لو مات لا یورث عنہ اھ ملخصًا ایك آدمی کی کُھلی جگہ ہے لوگوں سے کہتا ہے کہ یہاں نماز اداکرو، اب اگر اس نے یہ کہاکہ یہاں ہمیشہ تم نماز پڑھو، یا اتنا کہا نماز پڑھو مگر نیّت ہمیشہ کی ،تو وہ جگہ مسجد کہلائے گی _ اگر وُہ فوت ہو جاتا ہے تو وہ زمین وراثت میں شامل نہ ہو گی ( “ الفتاوی الرضویہ “ جلد ۸ صحفہ ۶۱ ) طالب دعا : سید جیلانی میاں جیلانی خانقاہ مدنی سرکار موربی گجرات #مسجد #SaiyedJillaniMiya

رد فرقہ قادیانیہ مرزائیہ

کیا   آپ   جانتے   ہیں     ؟ قسط  :  ۱    -:    رد   فرقہ   قادیانیہ   مرزائیہ     :- ( ۱ )  ایسا   شوہر   جو   مرزاقادیانی   کے   مریدوں   میں   منسلک   ہو   کوکر   صبغ   عقائد   کفریہ   مرزائیہ   سے   مصطبغ   ہو   کو   کر   علی   رؤس   الاشہاد ضروریات   دین   سے   انکار   کرتا   رہتا   ہے   سو   مطلوب   عن   الاظہار   یہ   ہے   کہ   شخص   شرعا   مرتد   ہوچکا   اور   اس   کی   منکوحہ   اس   کی زوجیت   سے   علیحدہ   ہو   چکی   اور   منکوحہ   کا   کل   مہر   معجل   ،   مؤجل   مرتد   کے   ذمہ   ہے   ،   اولاد   صغار   اپنے   والد   مرتد   کی   ولایت   سے نکل   چ...

گائے کی قربانی شعارے اسلام ہے ، cow and islam

-: گائے کی قربانی شعار اسلام ہے، :- (گائے کی قربانی کے بارے میں بہترین طریقہ) قسط : ۲ کیا آپ جانتے ہیں  ؟ الجواب ؛ اصل مسئلہ کے جواب سے پہلے دو۲ امرذہن نشین کرنا لازم : اول: یہ کہ ہماری شریعت مطہر اعلٰی درجہ حکمت ومتانت ومراعات دقائق مصلحت میں ہے،اور جوحکم عرف ومصالح پر مبنی ہوتاہے انھیں چیزوں کے ساتھ دائر رہتاہے،او راعصا روامصار میں ان کے تبدل سے متبدل ہوجاتاہے،اور وہ سب احکام احکام شرع ہی قرار پاتے ہیں،مثلا زمان برکت نشان حضور سرو عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں بوجہ کثرت خیر ونایابی فتنہ وشدت تقوٰی وقوت خوف خدا عورتوں پر ستر واجب تھا نہ حجاب،اورزنان مسلمین برائے نماز پنجگانہ مساجد میں جماعتوں کے لئے حاضر ہوتیں،بعدحضور کے جب زمانے کا رنگ قدرے متغیر ہوا ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے فرمایا: لوا ن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رأی من النساء مارأینا لمنعھن من المسٰجد کما منعت بنواسرائیل نسائھا ۔ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہمارے زمانے کی عورتوں کو ملاحظہ فرماتے تو انھیں مساجد جانے سے ممانعت کرتے جیسے بنی اسرائیل نے اپنی عو...

تراویح ، رمضان ، Ramzan, Taravih

کیا آپ جانتے ہیں  ؟ آج کل اکثر رواج ہوگیا ہے کہ حافظ کو اُجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں  یہ ناجائز ہے ۔ دینے والا اور لینے والا دونوں  گنہگار ہیں ، اُجرت صرف یہی نہیں  کہ پیشتر مقرر کر لیں  کہ یہ لیں  گے یہ دیں  گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں  کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ اَلْمَعْرُوْفُ کَالْمَشْرُوْطِ ہاں  اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں  دوں  گا یا نہیں  لُوں  گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں  تو اس میں  حرج نہیں  کہ اَلصَّرِیْحُ یُفَوِّقُ الدَّلَالَۃَ  ، صراحت کو دلالت پر فوقیت ہے ۔ ( “ بہار شریعت “ جلد ۴ ، ۶۹۵ ) طالب دعا : سید جیلانی میاں جیلانی خانقاہ مدنی سرکار ۔ موربی https://chat.whatsapp.com/JisyhwFq9Ea8eottd28Iqm

زکاة ۔ zakat

-: کتاب الزکوة :- کیا آپ جانتے ہیں ؟ قسط ؛ ۷ ( “ زکاة میں جس قدر چیز محتاج کی ملک میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجراہوگی “ ) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ان دنوں قحط میں بعض آدمی مد زکوٰۃ میں بھوکوں کو غلّہ مکّا وغیرہ تقسیم کر تے ہیں ، یہ جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا الجواب: زکوٰۃ میں روپے وغیرہ کہ عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلّہ مکّا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوٰۃ مالک کردینا جائز و کافی ہے ، زکوٰۃ ادا ہوجائیگی ، جس قدر چیز محتاج کی مِلك میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجراہوگی بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے ، مثلاآج کل مکّا کا نرخ نَو سیر ہے نَو من مکّا مول لے کر محتاجو ں کو بانٹی تو صرف چالیس روپیہ زکوٰۃ میں ہوں گے ، اُس پر جو پلّہ داری یا باربرداری دی ہے حساب میں نہ لگائی جائےگی ، یا گاؤں سے منگا کر تقسیم کی تو کرایہ گھاٹ چونگی وضع نہ کریں گے ، یا غلّہ پکا کر دیا تو پکوائی کی اُجرت ، لکڑیوں کی قیمت مجرانہ دینگے، اس کی پکی ہوئی چیز کو جو قیمت بازار میں وہی محسوب ہو گی ، لان رکنھا التملیك من فقیر مسلم لو جہ اﷲ تعالی من دون عو...

Zakat , زکاة

-: کتاب الزکوة :- کیا آپ جانتے ہیں ؟ قسط ؛ ۶ “ زکوة میں نیت شرط ہے “ اقول: وقد ظہر ھذا من مسائل البشیر والطبال ومھدی البالکورۃ فانہ انما یحمل الناس علی الدفع الیھم افعالھم ھذھ ولو لم یفعلو افلر بمالم ید فع الیھم شیئ ومن ذلك مسئلۃ دفع العیدی بنیۃ الزکوٰۃ الی خدامہ من الرجال و النساء حیث یقع عن الزکوٰۃ کما فی المعراج وغیرہ مع العلم با نہ لو لم یخدموہ لما اعطا ھم و با لجملۃ فھذہ العلائق تکون بواعث للناس علیٰ تخصیصھم بصرف الزکوٰۃ فد وران العطاء معھا وجودا وعد ما لا یعین معنی التعویض وانما المراجع النیۃ فا ذا خلصت اجزت۔ اقول: بشارت دینے والے ، سحر خواں ( سحری کے وقت بیدار کرنے والا ) اور نئے پھلوں کا ہدیہ دنے والے کے مسائل سے بھی یہ بات واضح ہوگئی ہے کیونکہ لوگ ان کو ان کے عمل کی وجہ سے دیتے ہیں ، اگر وُہ یہ کام نہ کریں تو اکثر اوقات ان بیچاروں کو کچھ بھی نہیں دیا جاتا ، اسی طرح یہ مسئلہ کہ خدام(خواہ مرد ہوں یا خواتین )کو نیت زکوٰۃ سے عیدی دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے ، جیسا کہ معراج وغیرہ میں ہے ، حالانکہ یہ بات مسلّمہ ہے کہ اگروُہ خدمت نہ کرتے تو انھیں یہ رقم نہ ملتی ، الغرض یہ و...

زکاة ۔ zakat

-: کتاب الزکوة :- کیا آپ جانتے ہیں ؟ قسط ؛ ۵ “ زکوة میں نیت شرط ہے “ ،خلاصۃالفتاوٰی و خزانۃالمفتین وغیر ھما معتبرات میں ہے : لودفع علیٰ صبیان اقاربہ دراھم فی ایام العید یعنی عیدی بنیّۃالزکوٰۃ اودفع الیٰ من یبشرہ بقدوم صدیق او یخبرہ بخبر او یھدی الیہ الباکورۃ او الی الطبال یعنی سحر خواں او الی المعلم بنیّۃ الزکوٰۃ جائز۔ ‪ اگر کسی نے ایامِ عید میں اپنے رشتہ داروں کے بچوں کو نیّت زکوٰۃسے عیدی دیدی یا اس شخص کو جس نے اس کے دوست کی آمد کی اطلاع دی یا کوئی خوشی والی خبر دی یا کسی کو عید مبارك پر دی یا سحری کے وقت بیدار کرنے والوں یا استاد کودی تو زکوٰۃ ادا ہوجائیگی (ت ) پھر زکوٰۃ صدقہ ہے اور صدقہ شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی فاسد ہوجاتی ہے ، مثلًازکوٰۃ دی اور یہ شرط کرلی کہ یہاں رہے گا تو دُوں گا ورنہ نہ دونگا اس شرط پر دیتا ہوں کہ تو یہ روپیہ فلاں کام میں صرف کرے اس کی مسجد بنادے یا کفنِ اموات میں اٹھادے تو قطعًا زکوٰۃ ادا ہوجائیگی اور یہ شرطیں سب باطل و مہمل ٹہریں گی، فی مصارف الزکوٰۃ من الدارالمختارلا الی بناء مسجد او کفنِ میّت و الحیلۃان یتصدق علی الفقیر ثم یا...

زکاة ۔ zakat

-: کتاب الزکوة :- کیا آپ جانتے ہیں ؟ قسط ؛ ۳ “ زکوة میں نیت شرط ہے “ ردالمحتار میں ہے : متعلق بتملیك ای لاجل امتثا ل امرہ تعالٰی ۔ ان کلمات (ﷲ تعالٰی )کا تعلق لفظ تملیك سے ہے یعنی یہ عمل فقط اپنے رب کریم کے حکم کی بجا آوری کے طور پر ہو ۔ پھر اس میں اعتبار صرف نیّت کا ہے اگر چہ زبان سے کچھ اور اظہار کرے ، مثلًا دل میں زکوٰۃ کا ارادہ کیا اور زبان سے ہبہ یاقرض کہہ کردیا صحیح مذہب پر زکوٰۃ ادا ہوجائیگی۔ شامی میں ہے : لااعتبارللتسمیۃفلوسماھا ھبۃاوقرضا تجزیہ فی الاصح۔ نام لینے کا اعتبار نہیں ، اگر کسی نے اس مال کو ہبہ یا قر ض کہہ دیا تب بھی اصح قول کے مطابق زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ۔ پھر نیت بھی صرف دینے والے کی ہے لینے والا کچھ سمجھ کرلے اس کا علم اصلًا معتبر نہیں ، فی غمزالعیون العبرۃلنیۃ الدافع لالعلم المدفوع۔ ١ غمزالعیون میں ہے کہ اعتبار دینے والے کی نیّت کا ہے نہ کہ اس کے علم کا جسے زکوٰۃ دی جارہی ہے ۔ ولہٰذااگر عید کے دن اپنے رشتہ داروں کو جنھیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے کچھ روپیہ عیدی کا نام کر کے دیا اور انہوں نے عیدی ہی سمجھ کر لیا اور اس کے دل میں یہ نیّت تھی میں زکوٰۃ...

زکاة ۔ zakat

-: کتاب الزکوة :- ( الرسالہ تجلی الشکاة لانارة اسئلة الزکاة زکاة کے مسائل کو واضح کرنے کے لئے چراغ کی چمک ) کیا آپ جانتے ہیں ؟ قسط ؛ ۲ زکوٰ ۃ میں نیّت شرط ہے بے اس کے ادا نہیں ہو تی، فی الاشباہ ماالزکوٰۃ فلایصح ادا ھا الّابالنیۃ (اشباہ میں ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی نیت کی بغیر درست نہیں ۔ ت) اور نیّت میں اخلاص شرط ہے بغیر اس کے نیّت مہمل ، فی مجمع الانھرالزکوٰۃ عبادۃ فلابدّفیھامن الاخلاص  (مجمع الانہر میں ہے زکوٰۃ عبادت ہے لہٰذا اس میں اخلاص شر ط ہے۔ ت) ور اخلاص کے یہ معنٰی کہ زکوٰۃ صرف بہ نیّتِ زکوٰۃ و ادائے فرض و بجا آوری حکم الٰہی دی جائے ، اس کی ساتھ اور کوئی امر منافیِ زکوٰۃ مقصود نہ ہو۔ تنویر الابصار میں ہے : الزکوٰۃ تملیك جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیرغیرھاشمی ولامولاہ مع قطع المنفعۃ عن المملك من کل وجہ ﷲ تعالٰی۔ زکوٰۃ شارع کی مقرر کردہ حصہ کا فقط رضائے الہٰی کے لئے کسی مسلمان فقیر کو اس طرح مالك بنانا کہ ہر طرح سے مالك نے اس شے سے نفع حاصل نہ کرنا ہو بشرطیکہ وُہ مسلمان ہاشمی نہ ہو اور نہ ہی اس کا مولیٰ ہو ۔ (ت) درمختار میں ہے: ﷲتعالٰی بیان لا شتراط النیّۃ۔ ...

زکاة - zakat

-: کتاب الزکوة :- کیا آپ جانتے ہیں ؟ قسط ؛ ۱ مسئلہ ؛ جناب عالی فیض بخش فیض رساہ امید گاہ جاویداں بندہ سے ایك مولوی امرت سر سے آئے ہیں وہ کسی بات کا جھگڑا کیا تھا تو بندہ نے کہا کہ نماز کا الله نے بہت بار قرآن شریف میں ذکر کیا ہے اور زکوٰۃ کا بھی بہت بار ذکر کیا ہے مگر روزہ کا ایك بار ذکر کیا ہے ، جنا ب عالی یہ صحیح ہے یا نہیں ؟اور عُشر کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے یا نہیں ؟ الجواب : فی الواقع نماز و زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت و مسائل تینوں قسم کا ذکر قرآن مجیدمیں بہت جگہ ہے یہاں تك کہ مناقب بزازی و بحرالرائق و نھرالفائق و منح الغفار و فتح المعین وغیر ہا میں واقع ہوا کہ علاوہ اُن مواقع کے جن میں نماز و زکوٰۃ کا ذکر جُدا جُداہے دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر قرآنِ عظیم میں بیاسی٨٢ جگہ آیا ہے ، مگر علامہ حلبی و علامہ طحطاوی و علامہ شامی ساداتِ کرام محشیانِ درِمختار فرماتے ہیں :صحیح یہ ہے کہ اُن کا ساتھ ساتھ بتیس ٣٢ جگہ فرمایا ہے ۔ علامہ حلبی کے استاد نے وُہ سب مواقع گنا دئیے درمختارمیں ہے : قرنھا بالصلٰوۃ فی اثنین و ثمانین موضعا‪ ‬ (بیاسی ٨٢مقامات پر زکوٰۃ کو نمازکے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ...

قبورمسلمین کی توہین کی بِنا پر وہابیوں کی سرکوبی

(  قبورمسلمین   کی   توہین   کی   بِنا   پر   وہابیوں   کی   سرکوبی ) کیا   آپ   جانتے   ہیں     ؟ قسط  :  ۹ “  نامناسب   افعال   کرنے   سے   اموات   مسلمین   کو   ایذا   ہوتی   ہے  “ ابن   ابی   شیبہ   اپنی   مصنف   میں   سیدنا   عبداﷲ   ابن   مسعود   رضی   اﷲ   تعالی   عنہ   سے   راوی : اذی   المومن   فی   موتہ   کا   ذاہ   فی   حیاتہ   ۔ مسلمان   کو   بعد   موت   تکلیف   دینی   ایسی   ہی   ہے   جیسے   زندگی   میں   اسے   تکلیف پہنچائی۔ اور   اظہر   من   الشمس   ہے   کہ   قبور   کو   کھود   کر   ان   پر   رہنے   کو   مکان   بنایا   تو   اس   میں   یہ ...