Posts

شاستر اور ہندوؤں

*مشرکین کے دین میں فرقے تو بے شمار ہیں*  چنانچہ کئی سو مذہب ہندوؤں کا ہے لیکن ان میں بڑے مذاہب چھ شاستر ہیں اور ان چھ شاستروں کے اصل الاصول اور بڑے بڑے اور کھلے کھلے مسائل میں بڑا اختلاف ہے لیکن باوجود اتنے اختلاف کے ہندو ان چھؤں شاستروں کو ست یعنی برحق مانتے ہیں اور یہ بات عقل کے نزدیک نہایت ہی محال ہے لیجیے چھ شاستروں کا نام اور ان کے ماننے والوں کے متعلق پڑھیے 👈🏻 پہلا بیدانت شاستر یہ بیاس جی کا نکالا ہوا ہے اور اس شاستر کو ماننے والے بیدانتی کہلاتے ہیں ان کے نزدیک سوائے خدا کے کوئی چیز موجود نہیں ہے اور تمام مخلوقات کو خواب و خیال جانتے ہیں 👈🏻 دوسرا ہیمانسا شاستر یہ جیمن رکھ کا نکالا ہوا ہے اس کے شاگردوں کا نام یہ ہے مراری مصر کمارل بہت پربھاکر کردار اس شاستر کو ماننے والے میمانسک کہلاتے ہیں یہ لوگ حق تعالیٰ کو خالق نہیں مانتے، ان کا عقیدہ ہے کہ جو سکھ دکھ ہوتا ہے یہ کرم یعنی عمل کے سبب ہے، اسی طرح یہ لوگ دنیا کی ابتداء و انتہا نہیں مانتے 👈🏻 تیسرا نیائے شاستر ہے یہ گئوتم رکھ کا بنایا ہوا ہے اس شاستر میں حکمت، منطق و فلسفہ کا بیان ہے اس کو ماننے والے نیایک کہلاتے ہ...

قادری کر قادری رکھ قاریوں میں اٹھا*

*قادری کر قادری رکھ قاریوں میں اٹھا* امام یکتا سیدی ابوالحسن نورالملۃ والدین علی قدس سرہ،بہجۃ الاسرار شریف میں فرماتے ہیں: حضور پر نور سیدنا غوث الاعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی گئی کہ  اگر کوئی شخص حضور کا نام لیوا ہو اوراس نے نہ حضور کے دست مبارك پر بیعت کی ہو نہ حضور کاخرقہ پہنا ہو کیا وہ آپ کےمریدوں میں شمار ہوگا فرمایا: جو اپنے آپ کو میری طرف نسبت کرے اور اپنا نام میرے غلاموں کے دفتر میں شامل کرے ﷲ اسے قبول فرمائے گا اور اگر وہ کسی ناپسندیدہ راہ پر ہو تو اسے توبہ دے گا اور وہ میرے مریدوں کے زمرے میں ہے اور میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے مریدوں اور ہم مذہبوں اورمیرے ہر چاہنے والے کو جنت میں داخل فرمائے گا 📚 فتاوی رضویہ شریف سعیدی موبائل اپلیکیشن اب آپ بھی روزانہ پڑھا کریں قادری کر قادری رکھ قاریوں میں اٹھا قدر عبد القادر قدرت نما کے واسطے

جس کا کوئی پیر نہیں ، اس کا پیر شیطان ہے کا صحیح مفہوم کیا ہے؟

“ صوفی رنگ “ "مٙن لا شیخ لہ فشیخہ الشیطٰن "  جس کا کوئی پیر نہیں ، اس کا پیر شیطان ہے  کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :  آج کل جو بیعت رائج ہے اسے بیعتِ تبرک کہتے ہیں جو نہ فرض ہے نہ واجب اور نہ ایسا کوئی حکم شرعی کہ جس کو نہ کرنے پر گناہ یا آخرت میں مواخذہ ہو_ ہاں! اگر کوئی جامع شرائط پیر مل جائے تو ہاتھ دے کر اس کا مرید ہونا ایک نیک عمل اور باعث خیر و برکت اور بہت سے دینی و دنیاوی فائدے کا حامل ہے ---- 🔷" جس کا کوئی شیخ نہیں،اس کا شیخ شیطان ہے " کا صحیح مفہوم کیا ہے  ؟؟؟؟  ✏جواب : بعض لوگ اپنے من پسند پیروں اور ان کے صاحبان ثروت مریدین کو خوش کرنے کے لیے   " من لا شیخ لہ فشیخه الشیطٰن"  یعنی جس کا کوئی پیر نہیں اس کا پیر شیطان ہے،  سے مراد آج کل کی مروجہ پیری، مریدی لیتے ہیں، اور اپنی اس جاہلانہ فکر کو بڑے دهڑلے سے اپنی تقریر و تحریر یہاں تک کہ جلسہ و جلوس کے پوسٹرز کے ذریعے خوب پھیلاتے ہیں تا کہ عوام کی  خاطر خواہ بهیڑ اکٹھی ہو جائے، ان کے مخصوص پیر صاحب ان  سے خوش ہو جائیں اور صلے می...

رفع یدین کرنا خلاف سنت اور ممنوع ہے

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے تعلق سے کہ احناف کے نزدیک نماز میں رفع یدین کرنا کیسا ہے؟ جبکہ غیر مقلدین؛ اہلحدیث رفع یدین پر ایڑی چوٹی کا زور دیتے ہیں؛ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں؛؛  الجواب بعون الملک الوہاب  صورت مسؤلہ میں احناف اہل سنت کے نزدیک رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا یعنی دونوں ہاتھ اٹھانا خلاف سنت اور ممنوع ہے مگر  غیر مقلدین رفع یدین کرتے ہیں اور اس پر بہت زور دیتے ہیں  اسی تعلق سے ایک غیر مقلد کا ایک پوسٹ نظر نواز ہوا جو اس طرح تھا کہ "جب مجھے نماز میں رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین نہ کرنے کی ایک بھی دلیل احادیث سے نہ مل سکی تو میں اہل حدیث ہو گیا" میں نے اس کی اس افترابازی کا جواب دینے کیلئے چند احادیث کا ذکر کرنا ضروری سمجھا؛؛  لھذا رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا مکروہ اور خلاف سنت ہے اس مسئلہ پر حدیث پاک ملاحظہ فرماکر غیر مقلدین کے فریب سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں  (1) حدیث شريف ) ترمذى،  أبوداود ، نسائی اور ابن ابی شیبہ نے حضرت علقمہ رضی اللہ...

امامت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کو کہ نہ حافظ قرآن ہے نہ مسائل دان نہ علمِ قرأت سے واقف ایك معمولی اردوخواں بلکہ بازار میں کتب فروشی و نعلین فروشی کی دکان کرنےوالا ہے ایك مسجد کا امام بننا چاہتا ہے حالانکہ دو عالم متقی ومحتاط اسی مسجد میں اور بھی موجود ہیں اور مہتمم مسجد واکثر نمازی اس شخص کی امامت سے راضی نہیں اس صورت میں ایسے امام کے حق میں کیا حکم ہے اور ان علماء کی اقتداء کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ بینوا تو جروا الجواب: صورتِ مسئولہ میں اُس شخص کو امام بننا جائز نہیں اگر امامت کرے گا گنہگار ہوگا جب لوگ اسکی امامت اس وجہ سے ناپسند رکھتے ہیں کہ اُس سے زیادہ علم والے موجود ہیں تو اُسے امامت کرنا شرعًا منع ہے۔ درمختار میں ہے : لو ام قوماوھم لہ کارھون ان الکراھۃ لفساد فیہ اولانھم احق بالامامۃ منہ کرہ لہ ذلك تحریما١ [] الخ اگرکوئی کسی قوم کا امام بنا حالانکہ وہ لوگ اس کو برا جانتے ہیں تو اگران کی نفرت امام کے اندر کسی خرابی کی وجہ سے ہے یا اس وجہ سے کہ وہ لوگ بنسبت امام مذکور کے امامت کے زیادہ مستحق ہیں تو اس شخص کو امام ہونا مکروہِ تحریمی ہے الخ۔(ت) پس شخص مذکور ہر گز...

Masjid مسجد

 کیا آپ جانتے ہیں ؟  علماء فرماتے ہیں دروازہ مسجد پر جو دُکانیں ہیں فنائے مسجد ہیں کہ مسجد سے متصل ہیں ، فتاوٰی امام قاضی خاں پھر فتاوٰی علمگیریہ میں ہے: یصح الاقتداء لمن قام علی الدکاکین التی تکون علی باب المسجد لانھامن فناء المسجد متصلۃ بالمسجد۔ ] اس شخص کی اقتداء درست ہے جو اس دکان پر کھڑا ہے جو مسجد کے دروازے پر ہے کیونکہ یہ فنائے مسجد میں ہونے کی وجہ سے مسجد سے متصل ہے۔(ت) ظاہر ہے کہ جو دُکانیں دروازہ پر ہیں صحن مسجد سے متصل ہیں نہ درجہ مسقفہ سے ،تو لاجرم صحنِ مسجد مسجدہے، اور یہیں سے ظاہر کہ صحن کو فنا کہنا محض غلط ہے اگر وہ فنائے مسجد ہوتا تو دکانیں کہ اس سے متصل ہیں متصل بہ فنا ہوتیں ، نہ متصل بہ مسجد ، پھر ان دکانوں کے فنا ٹھہرنے میں کلام ہوتا کہ فنا وہ ہے جو متصل بہ مسجد ہو نہ وہ کہ متصل بہ فنا ہو، ورنہ اس تعریف پر لزوم دَور کے علاوہ متصل بالفنا بھی فنا ٹھہرے تو سارا شہر یا لااقل تمام محلہ فنائے مسجد قرار پائے  کما لایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ت) اور یہ ادعا کہ صحن وفنا کا مفہوم واحد  جہل شدید ہے کہ کسی عاقل سے معقول نہیں ، شاید یہ قائل اُن دکانوں کو بھی صحن م...

Masjid مسجد

  حدیث  لاصلٰوۃلجارالمسجدالافی المسجد [] ) مسجد کے  پڑوسی کی نماز ، مسجد کے علاوہ نہیں ہو سکتی۔ کی تعمیل کہاں ہوئی اور سنتِ عظیمہ جلیلہ کس واسطے چھوڑی ، کہا کو ئی ذی عقل مسلمان گوارا کرے گا کہ مکان چھوڑ کر آوازِ آذان سُن کر نماز کو جائے اور مسجد ہو تے ساتے مسجد میں نہ پڑھے بلکہ اس کے حریم و حوالی میں نماز پڑھ کر چلا آئے، کیا اہل عقل ایسے شخص کو مجنون نہ کہیں گے، تو ا نکار والوں کا قو ل وفعل قطعًا متناقض، اگر یہ عذر کریں کہ جہاں امام نے پڑھی مجبوری ہیں پڑھنی ہوئی ہے تو محض بیجا و نا معقول وناقابل قبول ، آپ صاحبوں پر حقِ مسجد کی رعایت اتباعِ جماعت سے اہم و اقدم تھی، جب آپ نے دیکھا کہ سب اہل جماعت مسجد چھوڑ کر غیر مسجد میں نماز پڑھتے ہیں آپ کو چاہئے تھا خود مسجد میں جاکر پڑھتے، اگر کوئی مسلمان آپ کا ساتھ دیتا جماعت کرتے ورنہ تنہا ہی پڑھتے کہ حقِ مسجد سے ادا ہوتے۔ یہاں تك علما اس تنہا پڑھنے کو دوسری مسجد میں باجماعت پڑھنے سے افضل بتاتے ہیں نہ کہ غیر مسجد میں۔ فتاوٰی امام قاضی خاں پھر خزانۃ لمفتین پھر ردلمحتار وغیرہ میں ہے۔ یذھب الی مسجد منزلہ ویؤذن فیہ ویصلی وان کان واحدًا لا...