کیا آپ جانتے ہیں ؟ آج کل اکثر رواج ہوگیا ہے کہ حافظ کو اُجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے ۔ دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں ، اُجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ یہ لیں گے یہ دیں گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہ اَلْمَعْرُوْفُ کَالْمَشْرُوْطِ ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لُوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ اَلصَّرِیْحُ یُفَوِّقُ الدَّلَالَۃَ ، صراحت کو دلالت پر فوقیت ہے ۔ ( “ بہار شریعت “ جلد ۴ ، ۶۹۵ ) طالب دعا : سید جیلانی میاں جیلانی خانقاہ مدنی سرکار ۔ موربی https://chat.whatsapp.com/JisyhwFq9Ea8eottd28Iqm
( قبورمسلمین کی توہین کی بِنا پر وہابیوں کی سرکوبی ) کیا آپ جانتے ہیں ؟ قسط : ۹ “ نامناسب افعال کرنے سے اموات مسلمین کو ایذا ہوتی ہے “ ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں سیدنا عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی : اذی المومن فی موتہ کا ذاہ فی حیاتہ ۔ مسلمان کو بعد موت تکلیف دینی ایسی ہی ہے جیسے زندگی میں اسے تکلیف پہنچائی۔ اور اظہر من الشمس ہے کہ قبور کو کھود کر ان پر رہنے کو مکان بنایا تو اس میں یہ ...
-: کتاب الزکوة :- کیا آپ جانتے ہیں ؟ قسط ؛ ۵ “ زکوة میں نیت شرط ہے “ ،خلاصۃالفتاوٰی و خزانۃالمفتین وغیر ھما معتبرات میں ہے : لودفع علیٰ صبیان اقاربہ دراھم فی ایام العید یعنی عیدی بنیّۃالزکوٰۃ اودفع الیٰ من یبشرہ بقدوم صدیق او یخبرہ بخبر او یھدی الیہ الباکورۃ او الی الطبال یعنی سحر خواں او الی المعلم بنیّۃ الزکوٰۃ جائز۔ اگر کسی نے ایامِ عید میں اپنے رشتہ داروں کے بچوں کو نیّت زکوٰۃسے عیدی دیدی یا اس شخص کو جس نے اس کے دوست کی آمد کی اطلاع دی یا کوئی خوشی والی خبر دی یا کسی کو عید مبارك پر دی یا سحری کے وقت بیدار کرنے والوں یا استاد کودی تو زکوٰۃ ادا ہوجائیگی (ت ) پھر زکوٰۃ صدقہ ہے اور صدقہ شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی فاسد ہوجاتی ہے ، مثلًازکوٰۃ دی اور یہ شرط کرلی کہ یہاں رہے گا تو دُوں گا ورنہ نہ دونگا اس شرط پر دیتا ہوں کہ تو یہ روپیہ فلاں کام میں صرف کرے اس کی مسجد بنادے یا کفنِ اموات میں اٹھادے تو قطعًا زکوٰۃ ادا ہوجائیگی اور یہ شرطیں سب باطل و مہمل ٹہریں گی، فی مصارف الزکوٰۃ من الدارالمختارلا الی بناء مسجد او کفنِ میّت و الحیلۃان یتصدق علی الفقیر ثم یا...
Comments
Post a Comment