-: کتاب الزکوة :- کیا آپ جانتے ہیں ؟ قسط ؛ ۶ “ زکوة میں نیت شرط ہے “ اقول: وقد ظہر ھذا من مسائل البشیر والطبال ومھدی البالکورۃ فانہ انما یحمل الناس علی الدفع الیھم افعالھم ھذھ ولو لم یفعلو افلر بمالم ید فع الیھم شیئ ومن ذلك مسئلۃ دفع العیدی بنیۃ الزکوٰۃ الی خدامہ من الرجال و النساء حیث یقع عن الزکوٰۃ کما فی المعراج وغیرہ مع العلم با نہ لو لم یخدموہ لما اعطا ھم و با لجملۃ فھذہ العلائق تکون بواعث للناس علیٰ تخصیصھم بصرف الزکوٰۃ فد وران العطاء معھا وجودا وعد ما لا یعین معنی التعویض وانما المراجع النیۃ فا ذا خلصت اجزت۔ اقول: بشارت دینے والے ، سحر خواں ( سحری کے وقت بیدار کرنے والا ) اور نئے پھلوں کا ہدیہ دنے والے کے مسائل سے بھی یہ بات واضح ہوگئی ہے کیونکہ لوگ ان کو ان کے عمل کی وجہ سے دیتے ہیں ، اگر وُہ یہ کام نہ کریں تو اکثر اوقات ان بیچاروں کو کچھ بھی نہیں دیا جاتا ، اسی طرح یہ مسئلہ کہ خدام(خواہ مرد ہوں یا خواتین )کو نیت زکوٰۃ سے عیدی دینے سے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے ، جیسا کہ معراج وغیرہ میں ہے ، حالانکہ یہ بات مسلّمہ ہے کہ اگروُہ خدمت نہ کرتے تو انھیں یہ رقم نہ ملتی ، الغرض یہ و...
-: کتاب الزکوة :- کیا آپ جانتے ہیں ؟ قسط ؛ ۱ مسئلہ ؛ جناب عالی فیض بخش فیض رساہ امید گاہ جاویداں بندہ سے ایك مولوی امرت سر سے آئے ہیں وہ کسی بات کا جھگڑا کیا تھا تو بندہ نے کہا کہ نماز کا الله نے بہت بار قرآن شریف میں ذکر کیا ہے اور زکوٰۃ کا بھی بہت بار ذکر کیا ہے مگر روزہ کا ایك بار ذکر کیا ہے ، جنا ب عالی یہ صحیح ہے یا نہیں ؟اور عُشر کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے یا نہیں ؟ الجواب : فی الواقع نماز و زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت و مسائل تینوں قسم کا ذکر قرآن مجیدمیں بہت جگہ ہے یہاں تك کہ مناقب بزازی و بحرالرائق و نھرالفائق و منح الغفار و فتح المعین وغیر ہا میں واقع ہوا کہ علاوہ اُن مواقع کے جن میں نماز و زکوٰۃ کا ذکر جُدا جُداہے دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر قرآنِ عظیم میں بیاسی٨٢ جگہ آیا ہے ، مگر علامہ حلبی و علامہ طحطاوی و علامہ شامی ساداتِ کرام محشیانِ درِمختار فرماتے ہیں :صحیح یہ ہے کہ اُن کا ساتھ ساتھ بتیس ٣٢ جگہ فرمایا ہے ۔ علامہ حلبی کے استاد نے وُہ سب مواقع گنا دئیے درمختارمیں ہے : قرنھا بالصلٰوۃ فی اثنین و ثمانین موضعا (بیاسی ٨٢مقامات پر زکوٰۃ کو نمازکے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ...
کیا آپ جانتے ہیں ؟ خطیب کا نائب بنانا جائز نہیں “ کتاب “ ردالمختار علی الدرالمختار شرح تنویر الابصار “ جلد سوم ، کتاب الصلاة / باب الجمعة ، صحفہ ۲۲۳ میں ہے ؛ واختلف فی الخطیب المقررمن جھة الامام الاعظم اؤ ، من جھة ھل یملک الا ستنابة فی الخطبة ؟ فقیل لا مطلقاً ، ای لضرورة اؤ لا ، الا ان یفوض الیہ ذلک ۔ یعنی ؛ اس خطیب میں اختلاف کیا گیا جس کو امام اعظم کی جانب سے مقرر کیا گیا یا اس کے نائب کی جانب سے مقرر کیا گیا کیا وہ خطبہ میں کسی کو نائب بنا سکتا ہے ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ نہیں مطلقا ۔ یعنی خواہ ضرورت ہو یا نہ ہو مگر اس صورت میں جب وہ اسے یہ امر تفویض کردے ۔ شرح ؛ قولہ : وان لم تجز انکحتہ و اقضیتہ ) کیونکہ دونوں کا انحصار ولایت پر ہے ، اسے اپنی ذات پر ولایت نہں چہ جائیکہ غیر پر ہو، اس لئے بھی قضا کے لئے آزاد ہونا شرط ہے۔ قولہ ؛ واختلف ) یہ مذہب کے مشائخ جو اہل تخریج اور اہل ترجیح ہیں ان میں اختلاف نہیں بلکہ یہ متاخرین میں اختلاف ہے اس حوالے سے کہ جو انہوں نے مذہب کے مشائخ کی عبارتوں سے سمجھا ہے ۔ قولہ ؛ ھل یملک الاستنابة ...
Comments
Post a Comment